زیارت کے آثار و فوائد احادیث کی روشنی میں

*زیارت کے آثار وفوائد احادیث کی روشنی میں*

مقدمہ:

زیارت ایک عملی عبادت ہے جس کے معنی ائمہ علیہم السلام اور دینی پیشواؤں  کی درگاہ میں حاضری دینا ہے یا ان کے مزارات اور قبور اطہر جو کہ مقامات مقدس اور شعائر اللہ میں سے ہیں پر حاضری اور اپنے عقیدت اور احترام کا اظہار کرنا ہے ۔ زیارت اسلام میں ایک پسندیدہ عمل و عبادت ہے جس کو طول تاریخ میں بالعموم مسلمانوں اور بالخصوص پیروان مکتب ولایت وامامت نے بہت اہمیت دی ہے۔ زیارت کی پیروان مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام کے نزدیک ایک خاص مقام اور آثار معنوی ہیں اور آج کے اس دور میں زیارت حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ائمہ علیہم السلام و زیارت خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکتب جعفری کی امتیازات میں سے ایک امتیاز ہے جس کو شیعیان مولا کائنات بھاری بھرکم رقم ادا کرکے اپنی زندگی کو ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر شرفیابی حاصل کرتے ہیں۔

مفہوم زیارت:

زیارت(زیارة) عربی زبان کا لفظ ہے جس کی اصل ز، و، ر ہے ۔(ابن منظور، لسان العرب )
 اہل لغت نے اس لفظ کے لۓ متعدد معانی ذکر کیے ہیں ان تمام معانی کا معنی ایک چیز کا دوسری چیز کی طرف مائل ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص مائل ہوتا ہے اسکو زائر کہتے ہیں۔

ثقافت اسلامی میں زیارت کی اہمیت و منزلت:

قرآن مجید کی بعض آیات سے  یہ معلوم  ہوتا ہے کہ قبور کی زیارت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمانے میں ایک  مشروع اور جائز عمل تھا۔ سورہ توبہ کی آیہ 84 میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو منافقین کے جنازے نماز پڑھنا ان کے جنازے کے پاس کھڑا ہونا اور ان کے لۓ دعا کرنا، انکے قبر کے کنارے جانے سے منع کیا گیا ہے۔(وَ لاتُصَلِّ عَلی أَحَدٍ مِنْهُمْ ماتَ أَبَداً وَ لاتَقُمْ عَلی قَبْرِهِ إِنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ ماتُوا وَ هُمْ فاسِقُون.)
ترجمہ: ان کے مردوں میں سے کسی پر ہرگز نماز نہ پڑھنا اور انکے قبر کے کنارے کھڑے نہ ہونا کیونکہ انہوں نے خداوند متعال اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انکار کیا ہے اور اس حالت میں کہ فاسق تھے مرگۓ ہیں۔
طبرسی نے مجمع البیان میں تصریح کی ہے کہ اس آیہ کی نہی دلالت کرتی ہے کہ قبر کے کنارے جانا ،دعا پڑھنا ایک مشروع اور جائز عمل ہے اگر جائز و مشروع نہ ہوتا تو خداوند فقط منافقین کے قبر کے پاس جانے سے منع نہ کرتا۔
خود سیرت پاک پیامبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کیونکہ آپ خود بعض قبور کی  زیارت کیا کرتے تھے ۔ کتاب تاریخ المدینہ المنورہ نے یہ نقل کیا ہے کہ آپ فتح مکہ کے بعد جب مدینہ تشریف لے جا رہے تھے تو اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا,, یہ میری ماں کی قبر مبارک ہے ، خداوند سے اپنی ماں کی زیارت کی دعا کی تھی خداوند نے میرے مقدر کردیا۔(ابن شبہ، تاریخ المدینہ المنورہ، ص 118)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کے استحباب کے بارے روایات فراوان ہیں حتی تواتر اور مورد توافق شیعہ وسنی ہیں۔( امینی ، الغدیر ، ج 5 ، ص 112، 113)۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان زمان قدیم سےآج تک زیارت پیامبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور زیارت اہل بیت کو بہت اہمیت دیتے ہیں حتی بعض شیعہ علم کلام کے متخصصین  امام معصوم مؤمنین کی روح اور دل پر تسلط رکھتا ہے ( شہید مطہری، خاتمییت ، ص 153)
ایسی طرح اکثر ائمہ علیہم السلام کی زیارت ناموں میں یہ جملے نقل ہوئے ہیں اَشهَدُ اَنَّک تَشهَدُ مَقامی وَ تَسمَعُ کلامی وترد سلامي.
ترجمہ:  میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرے وجود کو دکھتے ہو، میرے کلام کو سنتے ہو اور میرے سلام کا جواب دیتے ہو ۔(زیارت امام رضا ۔ مفاتیح الجنان )

آثار و فوائد زیارت :

زیارت کی مختلف صورتیں اور اقسام ہیں ۔ ہر صورت کی فرد پر خاص آثار مترتب ہوتی ہیں مثلا بیت اللہ کی زیارت کا فلسفہ، آداب اور آثار ہیں۔ ایسی طرح مؤمنین کی زیارت اور ان کے قبور کی زیارت جو کہ دوطرفہ ہے کے بھی بہت زیادہ برکات و فوائد ہیں اور صاحب قبر زیارت کرنے والے پر خوش ہوجاتا ہے۔(علامہ مجلسی ، بحار الانوار ، ج 6  ،ص 256)
لیکن زیارت پیامبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ائمہ اطہار جو کہ انسان کامل، خداوند متعال کے محبوب ترین بندے ، جو تقوی کے اس اوج پر ہیں کہ جو عصمت کبری کا حامل ہے، جن کو خداوند متعال کا قرب حاصل ہے،  وہ ہر گناہ اور خطا سے پاک ہیں ۔ اہل بیت  سے دوستی کرنا امر الہی ہے اور ان سے دشمنی خداوند متعال سے دشمنی کے مترادف ہے ۔ پس اہل بیت سے دوستی کے بغیر، اہل بیت کی ولایت کو قبول کیے بغیر قرب الہی و مقامات عالیہ تک پہنچنا محال ہے۔( شیخ عباس قمی ، مفاتیح الجنان  ، زیارت جامعہ کبیرہ)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی زیارت کے روایات اسلامی میں انسان کی فردی و اجتماعی زندگی میں  بہت زیادہ  آثار اور فوائد ذکر ہوئے ہیں اور ایسی طرح انسان کی اخروی زندگی میں بھی بے پناہ آثار ہیں ہم یہاں اختصار کے ساتھ چند ایک کو ذکر کرتے ہیں ۔

1 گناہوں کی بخشش :

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی زیارت کے آثار و فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ان کی زیارت کرنے والے کے تمام گناہ معاف اور بخش دیۓ جاتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے کچھ فرشتوں کو قبر مطہر حسین بن علی علیہ السلام پر مامور کیا ہے۔ جب کوئی شخص امام کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے تو خداوند اسکے گناہ ان فرشتوں کو دیتا ہے، جب وہ شخص زیارت کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو خداوند اسکے گناہ محو کرتا ہےاور جب دوسرا قدم رکھتا ہے تو پھر اسکے حسنات ونیکیوں کو دو برابر اضافہ کرتا ہے اور اس پر جنت واجب کرتا ہے۔اور جب زائر حرم اباعبد اللہ سے پلٹتا ہے تو ایک منادی ندا دیتا ہے کہ اے بندے خدا تم بہت خوش نصیب ہو، بے شک تم غنیمت اورسلامتی کے ساتھ لوٹے ہو۔ تمہارے گزشتہ سارے گناہ معاف اور بخش دیۓ گئے ہیں اپنے اعمال کو ابتداء سے شروع کرو۔(کامل الزیارات )

2 : رضایت خداوند:

زیارت کے آثار اور فوائد میں سے ایک اثر اور فائدہ خالق کائنات کا زائرین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے راضی ہونا ہےجس كے بارے میں قرآن ارشاد کرتاہے ,,و رضوان من الله أكبر ،،(سورة توبة آية 72)۔
زائر کا ان تمام چیزوں کا تصدیق کرنا جن کا امام ایک زائر سے تقاضا کرتاہے اور ان چیزوں کو اس خاطر بجا لانا کہ مطلوب خداوند متعال ہیں۔ نتیجتا زائر خداوند متعال کی رضایت اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔( محمد مہدی  ، شوق دیدار ، ص 101)

3: طہارت حقیقت انسان:

ایک اہم ترین فائدہ زیارت کا یہ ہے کہ انسان  میں پاکیزگی آتی ہے اور وہ گناہوں کے نجاست و پلیدگی سے دور ہوتا ہے۔ آیت اللہ جوادی آملی حفظہ اللہ اپنی کتاب فلسفہ زیارت و آئین میں فرماتے ہیں کہ جس طرح سے انسان کی طبعیی زندگی میں پلیدگی اور کثافت سے طہارت ونظافت ظاہری ضروری ہے ایسی طرح پلیدگی و کثافت باطنی سےطہارت  باطنی بھی حکم ضروری فطرت و دین ہے۔ یقینا ولایت ائمہ علیہم السلام ایک ایسا عامل ہے جو انسان کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ اگر انسان ہر قسم کے فساد و پلیدگی سے دوری چاہتا ہے تو ولایت ائمہ علیہم السلام سے متصل ہوجائے کیونکہ ولایت ائمہ علیہم السلام انسان کو فساد اخلاقی ،اعتقادی اور ہر قسم کی کدورات سے پاک و مطہر کرتا ہے۔( جوادی آملی ، فلسفہ زیارت و آئین آن ، ص 118)۔

4: زیارت کا ثواب:

زیارت کے آثار و فوائد میں سے ایک مہم ترین اثر ثواب فراوان ہے جس کو روایات میں بیان کیا گیا ہے خاص کر زیارت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا بہت زیادہ ثواب بیان ہوا ہے۔ امام علیہ السلام کی زیارت کے چند آثار یہ ہیں۔

1۔ زائر کے دنیاوی واخروی حاجات پوری ہوتی ہیں۔

2۔ زائرین کے گناہ معاف و بخش دیۓ جاتے ہیں۔

3۔ زائرین کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔

4۔  ایام زیارت امام کو انسان کی عمر میں حساب نہیں کیا جاتا ہے ۔

5۔ زائرین امام عالی مقام کو جوار پیامبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اہل بیت جگہ ملتی ہے۔

6۔ زائرین امام سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے۔( جوادی آملی ، فلسفہ زیارت و آئین آن ، ص 139) 

5: امام کی معرفت :

زیارت ائمہ علیہم السلام کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ زیارت کرنے والے کو امام کی معرفت و پہچان ہوتی ہے ۔ امام کی معرفت چونکہ مقدمہ ہے خداوند متعال کی معرفت کے لۓ پس جو شخص امام کی معرفت حاصل کرتاہے اس کو خداوند کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے چونکہ زیارت اور متون زیارت میں ان عالی معارف کو بیان کیا گیا ہے جن کے ذریعہ انسان ان معارف مثل توحید عمیق اور صفات و اسماء  الہی سے آشنا ہوتا ہے ۔ یہ معارف امامت و لایت ائمہ علیہم السلام کے بغیر حاصل نہیں ہوتے ۔ پس  زیارت اولیاء الہی مقدمہ اور راستہ  ہے جس کے ذریعے خداوند متعال کی زیارت ، خداوند سے ارتباط اور تعلق وجودی قائم کرنا ممکن ہے۔چونکہ زیارت اور متون زیارت میں ائمہ علیہم السلام کے لۓ وہ صفات ذکر ہوئے ہیں جو خداوند متعال کی اسماء حسنہ اور صفات کمال و جمال کا مظہر ہیں۔ یعنی خداوند متعال کی صفات اور اسماء ذات رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ولی اللہ میں تجلی کرتے ہیں ( جوادی آملی ، فلسفہ زیارت و آئین آن ، ص 100)۔

6۔ شفاعت زائرین۔

ائمہ علیہم السلام کی زیارت کرنے کا ایک اثر یہ کہ ائمہ علیہم السلام کل یوم قیامت کے دن ان مؤمنین کی شفاعت کرینگے جنہوں نے ان کی زیارت کی ہو۔مرحوم شیخ صدوق نے اصول کافی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ائمہ علیہم السلام میں سے ہر ایک شیعوں کے لۓ  خود اپنے اوپر ایک حق رکھتے اور اس حق کو اس وقت ایفاء کرتے ہیں جب ائمہ علیہم السلام کی قبور مطہرہ کی زیارت کریں۔ پس جو شخص بھی عشق ومحبت اور ان چیزوں  پر اعتقاد رکھتے ہوئے کہ  جن کو ائمہ علیہم السلام پسند کرتے ہیں انکی زیارت کرتا ہے تو ائمہ علیہم السلام کل بروز قیامت ان کی شفاعت کرینگے۔إِ

نَّ لِکُلِّ إِمَام عَهْداً فِی عُنُقِ أَوْلِیَائِهِ وَ شِیعَتِهِ وَ إِنَّ مِنْ تَمَامِ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَ حُسْنِ الاَْدَاءِ زِیَارَةَ قُبُورِهِمْ

ترجمہ :  ائمہ علیہم السلام  میں سے ہر ایک اپنے دوستوں اور شیعوں کے لۓ  خود اپنے اوپر ایک حق رکھتے اور اس حق کو اس وقت کامل ایفاء کرتے ہیں جب ائمہ علیہم السلام کی قبور مطہرہ کی زیارت کریں۔( شیخ صدوق ، الکافی ، ج 4 ،  ص 567)۔

7 :  آخرت میں زائرین کی مدد : 

جو مؤمنین ائمہ علیہم السلام کی زیارت کرتے ہیں ائمہ اطہار بھی کل اپنے زائرین کی مشکلات میں ان کی مدد کو تشریف لائیں گے ۔ حضرت امام رضا علیہ السلام نے خود ارشاد فرمایا کہ جو بھی دور سے میری زیارت کرے اور دور سے زیارت کو آئے میں کل روز قیامت تین مقامات پہ اس کی مدد کو آؤں گا تاکہ اس کو مشکل سے نکال دوں گا۔
امام موسی بن جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں,,قَالَ الرِّضَا (ع) مَنْ زَارَنِي عَلَى بُعْدِ دَارِي أَتَيْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ، حَتَّى أُخَلِّصَهُ مِنْ أَهْوَالِهَا إِذَا تَطَايَرَتِ الْكُتُبُ يَمِيناً وَ شِمَالًا وَ عِنْدَ الصِّرَاطِ وَ عِنْدَ الْمِيزَانِ،،
ترجمہ : جو دور سے میری زیارت کرے یوم قیامت میں تین بار اسکے پاس آؤنگا حتی اس شخص کو ان احوال سے نجات دونگا۔ وہ تین مقامات یہ ہیں

1 ۔ جب دائیں اور بائیں طرف سے نامہ اعمال دیۓ جائیں گے ۔

2۔ پل صراط کے عبور کے وقت۔

3۔ جب نامہ اعمال کو تولہ جائے گا یعنی حساب وکتاب کے موقع پر ۔
(کتاب عیون اخبار الرضا علیہ السلام،  ج 1 ، 2)

8: مرکزیت علم و تبلیغ دین: 
حرم ائمہ علیہم السلام طول تاریخ میں مراکز علم ،تبلیغ و ترویج دین ، اسلامی قیام اور تحریکوں کے مرکز اور مبدا قرار پائے ہیں۔ یہ تمام برکات و فیوضات زائرین کی رفت وآمد سے ناشی و ایجاد ہوتے ہیں۔
9 : ائمہ کی سیرت سے آشنائی 
زیارت کےآثار و فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ مؤمنین و زائرین جس امام کی زیارت پہ تشریف لے جاتے ہیں اس امام کی سیرت سے آشنا ہوجاتے ہیں۔
چونکہ قرآن مجید نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ائمہ اطہار کی سیرت مسلمانوں بالعموم اور مؤمنین بالخصوص کے لۓ نمونہ اور سرمشق قراردیا ہے ۔ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ,, لقد كان لكم فى رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا،،۔
ترجمه : یقینا رسول اللہ کی زندگی میں تمہارے لۓ بہترین اسوہ (نمونہ)  ہے انکے لئے جو خداوند اور روز قیامت پر امید رکھتے ہیں اور خداوند کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ( سورہ احزاب  ،آیہ 21 )
10 انسان کی زندگی میں تبدیلی 
زیارت ائمہ علیہم السلام کا ایک نھایت اہم اثر و فائدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی اہل بیت کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں ان کی زندگی میں (اگر تھوڑی مدت کے لئے ہی کیوں نہ ہو) ایک تحول انقلاب آتا ہے ۔ انسان کسی بھی امام کی زیارت کے بعد سکون محسوس کرتا ہے کیونکہ ائمہ علیہم السلام کے قبور مطہرہ پر انسان کی تمام شرعی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ  تمہارے نزدیک ایک ایسی قبر ہے کوئی حاجت مند وہاں سے خالی نہیں لوٹا مگر خداوند متعال نے اس کی سب مشکلات و سختیوں کو برطرف کیا اور اسکی حاجتوں کو پورا کیا۔( جوادی آملی، عبداللہ ، فلسفہ زیارت و آئین آن ، ص 153۔) 

 

ظلمت سے نور تک کا سفر

*ظلمت سے نور تک کا سفر*


📝 تحریر : *ارشد حسین جعفری*

یوں تو دنیا میں ہر روز عجیب وغریب واقعات رونما ہوتے ہیں جو انسان کو حیرت میں ڈالتے ہیں لیکن آج سے چودہ سو سال پہلے سرزمین کربلا میں جو عجیب ترین اور سبق آموز ترین واقعات رونما ہوئے ان میں سے ایک واقعہ حضرت حر بن یزید الریاحی کا ہے۔ حضرت حر  کا شمار کوفے کے شجاع اور بہادر ترین اشخاص اور پہلوانوں میں ہوتا تھا۔ یہ بہادر شخص کوفے میں سلطنت ایران پر حملہ کرنے کے لئے بنائی گئی فوجی چھاؤنی کا حصہ تھے۔حضرت حر بن یزید کا تعلق بنو تمیم کے بزرگان اور بنو تمیم کی شاخ بنو ریاح سے تھا۔

جب شہر کوفہ کے گورنرعبیداللہ ابن زیاد کو معلوم ہوا کہ کوفے کے لوگوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو خطوط کے ذریعےکوفہ آنے کی دعوت دی ہے، اس وقت عبیداللہ اللہ ابن زیاد لعنت اللہ علیہ نے جناب حر کو بلایا اور ایک ہزار کے لشکر کا سپہ سالار بناکر کربلا معلی کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ حجت خدا کا راستہ روک سکے اور حر کو یہ حکم دیا تھا کہ اگر حسین بن علی علیہ السلام کوفہ آنے کا اصرار کرے تو امام علیہ السلام  کوگرفتار کرکے دارالامارہ لائیں۔ 

جب حضرت حر عبیداللہ کے محل سے نکل رہے تھے کسی نے ان کوپیچھے سے صدا دی اے حر تمہیں جنت مبارک ہو لیکن جب  حضرت حر نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا اور حیرت زدہ ہوگئے کہ میں حسین بن علی علیہ السلام سے لڑنے جارہا ہوں جبکہ جنت کی بشارت دی جارہی ہے ۔ حربن یزید ریاحی کوفہ سے کربلا کی طرف روانہ ہوئے یعنی حضرت حر کا یہ سفر در اصل ظلمت سے نور کی طرف سفر کا آغاز تھا، برائی سے اچھائی کی طرف کا سفر تھا، نجاست کل سے طھارت کل کی طرف کا سفر تھا، دنیا کی تمام تر  رنگینیوں ،رزق وبرق اور مال ومتاع حتی کہ یزید کی  سپہ سالاری کے اس ظلمت  سے  خداوند متعال کی طرف سفر کا آغاز تھا یعنی وہ قرآن مجید کی اس آیہ مبارکہ,, اللَّهُ وَلِيُّ الَّذينَ آمَنوا يُخرِجُهُم مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النّورِ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا أَولِياؤُهُمُ الطّاغوتُ يُخرِجونَهُم مِنَ النّورِ إِلَى الظُّلُماتِ ۗ أُولٰئِكَ أَصحابُ النّارِ ۖ هُم فيها خالِدونَ﴿۲۵۷﴾،، کا مصداق بن گیا۔

اس جوانمرد کے اس نورانی سفر کو علمائے اسلام میں سے ابو مخنف، شیخ مفید ، سید ابن طاؤوس ، علامہ باقر مجلسی اور مرحوم مازندرانی حائری نے مفصل ذکر کیا ہے۔ حضرت حر نےسر زمین کربلا میں ایسا توبہ کیا کہ جس کی نظیر تاریخ بشریت میں نہیں ملتی۔ حر بن یزید ریاحی کے دل سے ہدایت کی شمع محو نہیں ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ہدایت کے چراغ کو پالیا تو طاغوت زمان کے دل سے جو کہ برائی کا ڈھیر تھا حق کی جانب سفر کیا اور قافلہ حق سے پیوست ہوا۔

جب حضرت حر اپنے لاؤ و لشکر کے ساتھ سرزمین کربلا میں پہنچے تو دیکھا کہ سید الشہداء کا قافلہ کربلا میں پہلے پہنچ چکا تھا ۔ حضرت امام عالی مقام نے دشمن کے افراد حتی کہ حیوانات جو کی پیاس کی وجہ سے بےتاب تھے سب کو سیراب کیا بلکہ ایک شخص جو پانی پینے سے قاصر تھا امام عالی مقام نے ان کو خود اپنے دست مبارک سے سیراب کیا۔ شاید حضرت حر کو یہ عمل اچھا لگا ہو گا ۔ اور اس کا دل ہدایت کے چراغ کے اور نزدیک ہوا ہوگا ۔ پھر جناب حر نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی اقتداء میں نماز جماعت پڑھی تو شاید حضرت حر کو حق و باطل کی تشخیص دینے میں آسانی ہوئی ہوگی نماز کے بعد جناب حر کچھ عرصہ امام علیہ سے گفتگو کرتے ہیں اور شاید اب جناب حر  امام عالی مقام سے ملاقات کے بعد پوری طرح ٹوٹ چکا تھا تب وہ ہدایت کے چراغ سے متصل ہوا اورجام شہادت نوش کی ۔ 

علمائے اسلام نے حضرت حر کے متعلق ایک تاریخی جملہ اپنی مکتوبات میں ضبط کیا ہے ۔ وہ جملہ ہی در اصل ان کی نجات اور توبہ کا سبب بنا ۔ مختصر یہ کہ جب حربن یزید ریاحی نے امام عالی مقام کا راستہ روکا ہے اس وقت امام علیہ السلام نے حر کو مخاطب کرکے فرمایا تھا ,,ثقلتک امک ،، کہ اے حر تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے تو جناب حر نے ایک مرتبہ امام علیہ السلام کی طرف دیکھا،تھوڑی دیر خاموش رہا اور یوں گویا ہوئے اگر عرب کا کوئی اور شخص مجھے یہ جملہ کہتا تو میں بھی انکو یہی جملہ کہتا لیکن اے حسین بن علی تیری ماں بہت باعظمت خاتون ہے کہ مجھے حق نہیں کہ میں ان کو ذکر خیر کے علاوہ یاد کروں۔ پس حضرت حر کو جو نجات ملی وہ حضرت سیدہ کونین ، فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا کے در سے ملی ہے ۔ 

حضرت حر نے جناب زہراء سلام اللہ علیھا کا احترام کیا، ادب کا لحاظ رکھا تو خداوند متعال کو یہ ادب اتنا پسند آیا کہ حر کو ہمیشہ کے لیے آزاد کیا جسکی ترجمانی سید الشہداء کا وہ معروف اور مشہور جملہ ہے جو آپ نے حضرت حر کی شہادت کے بعد انکے سراہنے پہنچ کر فرمایا تھا,, أنت الحر كما سمتك أمك وأنت الحر في الدنيا و أنت الحر فى الآخرة،،

حرکت جوہری

*حرکت جوهری*:( Substantial motion)

📝 *تحریر ارشد حسین جعفری*

ملا صدرا سے پہلےفلاسفه(مشاء اور اشراق) اس بات کے قائل تهے که حرکت فقط اعراض(حالات شئ) میں ممکن هے اور حرکت کو اعراض کے ساتھ مختص کرتے تهے اور جوهر ( ذات شئ) میں حرکت کو نه فقط  ممکن نهیں سمجتهے تهے بلکه جوهرکی حرکت کو محال جانتے تهے . کیونکه وه سمجتهے تهے حرکت کے لۓ ایک موضوع کا هونا ضروری هے اور اس موضوع کو همیشه ثابت هونا چاهیۓ جس پر حرکت جاری هو. اگر جوهر بهی حرکت کرتا هو تو حرکت کے لۓ کوئی موضوع نهیں هوگا اس کا لازمه یه هوا که حرکت کے لۓ نه کوئی متحرک هے نه کوئی موضوع جبکه یه امر غیر معقول هے. مثلا المیزاب جار  اس مثال میں میزاب موضوع هے حرکت کا اور پانی اس میزاب پر جاری هوتا هے پس پانی جو که حرکت کررها هے اس کا موضوع میزاب هے لیکن صدر المتألهین نے یه ثابت کیا هے که حرکت فقط اعراض کے ساتھ مختص نهیں بلکه خود جوهر بهی حرکت کرتا هے بلکه حرکت جوهر سبب وفاعل قریب اعراض هے یعنی پہلے حرکت جوهر میں هے اور حرکت جوهر سبب هے اعراض کی حرکت کے لۓ مثلا سیب  کی مثال هے اس میں ملا صدرا سے قبل کے حکماء یه اعتقاد رکتهے تهے که خود سیب حرکت نهیں کرتا بلکه عرض هے جو حرکت کرتا هے  یعنی سیب کا رنگ پہلے سبز هوتا هے اور مختلف مراحل سے هوتے هوۓ  سرخ هوجاتا هے پس سبز سے سرخ تک کا یه مرحله حرکت عرض هے اور خودسیب جو که جوهر هے اس میں کوئی حرکت نهیں بلکه موضوع هے حرکت عرض کے لۓ جبکه صدرا یه اعتقاد رکهتے هیں که خود جوهر ( مثال میں خود سیب) حرکت کرتا هے اور اعراض چونکه شوؤنات جوهر هیں تو جوهر کی حرکت کی وجه سے اعراض میں بهی حرکت هے بلکه وجود اعراض وجود جوهر کے مراتب میں سے هے پس اعراض میں حرکت جوهر کی وجه سے هے  .

*اشکال* 

اب یهاں سوال پیش آتا هےکه اگر جوهر بهی متحرک هے تو اس کے لۓ جو علت هے اسکو بهی متحرک هونا چاهیے اور اسکی جو علت هوگی وه بهی متحرک هوگی  پس تسلسل لازم آتا هے اور تسلسل علل میں باطل هے پس جوهر میں حرکت نهیں هے  

*جواب* 

اس اشکال کا جواب یوں دیا جا سکتا هے که وه علت جو وجود عطا کرتی هے وه ثابت هے وه متحرک نهیں هے اس نے جوهر کو وجود عطا کیا هے حرکت کو ایجاد  نهیں کیا لیکن حرکت  اس جوهر کا ذاتی هے  یعنی حرکت عین جوهر هے پس تسلسل لازم نهیں آتا جس طرح سے فلاسفه مسئله شرور کا حل پیش کرتے هیں که خدا ونده سبحانه وتعالی نے تو عالم ماده کو خلق کیا هے یعنی وجود عطا کیا هے اور شر اس عالم ماده کا لازمه هے( اگر هم شر کے قائل هوجائیں) اسی طرح خداونده متعال نے جوهر کو وجود عطا کیا هے نه حرکت کو اور حرکت جوهر کا لازمه هے 

*نتیجہ*

نتیجه یه هوا که جوهر کی حرکت سے انکار نهیں کیا جا سکتا

فلسفہ اور دین کا تعلق

*فلسفه اور دین کا تعلق*

📝 تحریر: *ارشد حسین جعفری*

حوزات علمیه کے اهم ترین مسائل میں سے ایک اہم مسئله فلسفه اور دین کا تعلق هے . بلکه تاریخ تفکر بشری میں یه مسئله زیر بحث رها هے .بعبارة أخرى مسئله دین اور فلسفه ،ظهور فلسفه ( عصر سقراط) سے آج تک موضوع بحث  قرار پایا هے . بعض بزرگان علم فلسفه کو دین سےخارج اور علم فلسفه کا سیکهنا اور سیکهانا نه صرف جائز نهیں سمجهتے هیں بلکه  کفر جانتے هیں اور اس صنف کےلوگ آج بهی هیں اور اپنے نظریه کا دفاع بهی کرتے هیں۔ لیکن بعض اور بزرگان علم وحکمت یه نظریه رکتهے هیں که فلسفه کا پڑهنا اور پڑهانا نه صرف نجائز اور کفر نهیں بلکه تعلیم وتعلم فلسفه کو ایک امر ضروری سمجتهے هیں. اس نظریه کے علماء بهی وجود رکتهے هیں.

اب سوال یه هے که آیا دین اور فلسفه کا آپس میں تعارض هے .؟

آیا دین اور عقل میں تضاد هے ؟ آیا فقط اس وجه سے که فلسفه کا ذکر قرآن اور روایات میں نهیں ( ان کے فهم میں)یا یه که اس علم نے غرب میں جنم لیا هے پس اس کا دین سے کوئی تعلق نهیں کیا یه بات معقول هے.؟
آیا فلسفه کے چند ایک مسائل ان کے مبنی کے مطابق نہ ہونےکی وجه سے ایک علم سے  انکار اور اس کو کفر قرار دینا  اور ایسی بنیاد پر فلاسفہ کو کافر کهنا یا علم فلسفہ کو دین سے خارج قرار دینا تعلیمات قرآن کریم اور سیرت أئمه علیهم السلام کے منافی نهیں.؟؟؟

اب اگر دین اور فلسفہ میں تعارض ہے تو کیوں قرآن نے تفکر اور تدبر کی دعوت دی ہے ایسی طرح ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام نے مختلف مذاہب کے علماء سے مناظرے کیۓ ہیں اور ائمہ نے لوگوں کو برہان اور استدلال کے ذریعہ قائل کیا جس کو آج کی اصطلاح میں منہج عقلی سے تعبیر کرتے ہیں اور فلسفہ مسائل کو منہج عقلی کے ذریعہ حل کرنا اور حقیقت تک پہنچنے کا نام ہے۔

ایسی طرح فلسفہ کو اس بنیاد پر رد کرنا کہ یہ غرب کی ایجاد ہے یا سقراط کی ایجاد سمجھتے ہوئے اس کو قبول نہ کرنے والوں سے ایک سوال پوچھنا کافی سمجھتا ہوں کہ کیا ظہور اسلام کے بعد اسلام نے اہل جاہلیت کے تمام کام جو مشرک انجام دیتے تھے سب کی نفی کی یا جو مبانی اسلام کے مخالف تھے ان کی نفی کی ؟ پس اگر ہم سقراط کو مسلمان نہ بھی سمجھیں (إن نسلم هذا القول) تب بھی حکمت سقراط کو صرف اس بناء پر کہ مسلمان نہیں تھا رد نهيں کر سکتے ہیں کیونکہ روایت یہ کہتی ہے کہ,,  الحكمة ضالّة المؤمن فاطلبوها و لو عند المشرك تكونوا أحق بها وأهلها.،،

علم فلسفه قدیم ترین علوم میں سے ایک علم هے۔ جب سے حضرت انسان نے اس دنیا میں قدم رکہا ہے اس وقت سے یہ علم انسان کے ساتھ ہے  یہ الگ مسئلہ ہے کہ انسان نے کشف بہت دیر بعد کیا والا بہت ساری چیزیں انسان کے وجود کے ساتھ موجود تھیں۔ مثلا اہل منطق یہ اعتقاد رکتہے ہیں کہ نطق انسان کی ذات میں ہےایسی طرح حکماء وفلاسفہ یہ کہتے ہیں کہ تفکر بھی انسان کی ذات میں ہے۔پس نطق اور تفکر انسان کی ذات کا جزء لا ینفک ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ تفکر ، تدبر اور فکر انسان کی ذاتیات ہیں لیکن اگر انسان متوجہ نہ تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نطق اور تفکر انسان کی ذاتیات نہیں جیسے کہ فلاسفه کہتے ہیں کہ , عدم الوجدان(العلم) لا يدل على عدم الوجود، 
پس تفکر و نطق ہر وقت ذات انسان میں ہیں یعنی تفکر و نطق عین ذات انسان ہیں اور مسائل میں تفکر عقلی کو آج کی اصطلاح میں فلسفہ کہتے ہیں

یہاں فلاسفہ کے اقوال پیش خدمت  ہیں جو فہم مسئلہ میں مددگار ہیں.

1  *ملا صدرا*
ملا صدرا علم فلسفه کے بارے میں کہتے ہیں کی ایک انسان بغیر علم فلسفہ کے تکامل حقیقی حاصل نہیں کرسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ کمال حقیقی انسان فقط قرب الہی میں ہے اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تقرب خداوند متعال اس کی معرفت کے بغیر ممکن نہیں  پس صدرا کی نظر میں ہدف فلسفہ خدا کی معرفت ہے لذا انسان مکلف ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق خداوند کی معرفت حاصل کرے

2  *علامہ طباطبائی* 
  جب علامہ سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا گیا جو ائمہ سے فلسفہ کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں تو علامہ نے جواب دیا کہ یہ روایات آخر الزمان کے فلاسفہ کے ساتھ مختص ہیں اور علامہ فرماتے ہیں کہ یہ مذمت اہل فلسفہ کی ہوئی ہے نہ کہ خود فلسفہ کی مزید وہ کہتے ہیں کہ کچھ ایسی بھی روایات ہیں جو فقہاء آخر الزمان کی مذمت کو بیان کرتیں ہیں یا اہل اسلام اور اہل قرآن کی مذمت میں نازل ہوئیں ہیں تو کیا ان روایات سے یہ سمجھا جائے گا کہ خود علم فقہ ، اسلام اور نعوذ باللہ قرآن کی مذمت ہوئی ہے .لیکن قطعا ایسا نہیں ہے اور نه عقل انسان قبول کرتی هے.
ان روایات کے مقابل میں کچھ روایات ایسی بھی هیں جو فلاسفه اورحکماء کی مدح میں وارد هوئی هیں انهی روایات نے هی افلاطون کو رئیس الحکماء کا لقب دیا حتی که ارسطو کے بارے رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم سے نقل هے,, إنّ ارسطو طاليس كان نبيا فجهله قومه ،،
پس معلوم ہوا کہ فلسفہ کعلم مذموم نہیں ہے ممکن ہے بعض مسائل میں اختلاف ضرور ہو اور یہ ہر علم میں ممکن ہے.

3 *امام خمینی* 
 امام خمینی رحمت الله علیه فرماتے ہیں کہ فلسفہ علوم برہانی و عقلی میں سے ایک علم ہے یہ علم  انسان کو معرفت و شناخت خداوند متعال میں مددگار ہے۔

امام نے اپنے فرزند کو جو خط لکھا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ لسان انبیاء  و اصحاب دل کو اصحاب فلسفہ و براہین پر برتری کا یہ معنی نہیں کہ فلسفہ و علوم برہانی اور عقلی کو ترک کریں اگر ایسا کریں تو یہ علوم عقلی و استدلالی اور فلسفہ کے ساتھ خیانت ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ فلسفہ و استدلال مقصد اصلی تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے اور فلسفہ اس مقصد کے لیے حجاب نہ بنے.

امام مزید فرماتے ہیں کہ جو لوگ فلسفہ اسلامی پر اس وجہ سے نقد کرتے ہیں کہ اس کی جڑیں یونان سے ملتی ہیں ۔ یہ نقد کم اطلاعی اور معلومات نہ ہونے کی بناء پر ہے ۔امام فلسفہ اسلامی وحکمت اسلامی خاص کر حکمت صدرا ئی کو نور قرآن و حدیث سمجھتے ہیں امام حکمت اسلامی اور یونانی میں بہت فاصلہ کے قائل ہیں پس 
حکمت اسلامی امام کی نظر میں نہ فقط مخالف قرآن(وحی) نہیں ہے بلکہ قرآن وسنت کے ہمراہ و دامن میں پرورش پاتی ہے

4 *آیة الله جوادى* :
آیة اللہ جوادی اپنی کتاب ,, انتظار بشر از دین،، میں حدیث ,, إنّ لله على النّاس حجّتين حجة ظاهرة وحجة باطنة فأما الظاهرة فالرسل والأنبياء والأئمة  وأما الباطنه العقول،، کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی دین اور عقل کو ایک دوسرے کے مقابل سمجھتا ہے یا ایک دوسرے کے مخالف قرار دیتا ہے تو اس نے نہ حق عقل کو ادا کیا ہے اور نہ حق سہم نقل ادا کیا۔

آغای جوادی حفظہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ عقل و نقل ایک دوسرے کے مخالف اور مقابل میں نہیں بلکہ یہ دونوں دین کے دو منبع اثباتی ہیں۔

آصالة

:📝: ارشد حسین۔

*آصالة اور مفہوم وجود ،ماہیت و ملکوت*
ملا صدرا سے پہلے آصالۃ وجود و ماہیت کی بحث بعنوان آصالۃ وجود و ماہیت فلاسفہ کے درمیان مطرح نہیں تھی ۔ البتہ فلاسفہ مشاء کوآصالۃ وجود کی طرف نسبت دی جاتی ہے جس کے بانی شیخ الرئیس ہیں جو فیلسوف کبیر اور اپنے زمانے کی نابغہ شخصیت تھی ۔ لیکن فلاسفہ اشراق کو آصالۃ ماہیت کی طرف نسبت دی جاتی ہے اس مشرب کے بانی شیخ اشراق کو سمجھا جاتا ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ ملا صدرا سے پہلے آصالۃ وجود و آصالۃ ماہیت اس عنوان کے تحت بحث بین فلاسفہ اسلامی موجود نہیں تھی ہاں البتہ ایک بحث اضتطرادی و حاشیائی کے طور پہ بین حکماء مطرح تھی۔
البتہ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ خود  حکماء مشاء  نے  آصالۃ وجود کا ادعا نہیں کیا بلکہ ان کی ادلۃ سے یہ بات سمجھی گئ کہ حکماء مشاء آصالۃ وجود کے قائل ہیں ۔ اسی طرح شیخ اشراق نے بھی  آصالۃ ماہیت کا ادعا نہیں کیا بلکہ ان کے آصالۃ وجود پر اشکالات سے یہ سمجھا گیا کہ شیخ اشراق آصالۃ ماہیت کے قائل ہیں ۔ یہ دونوں باتیں قابل تحقیق اور قابل تامل ہیں۔
لیکن فیلسوف عظیم صدر المتالہین المعروف ملا صدرا  کے بعد آصالۃ وجود و آصالۃ ماہیت  کو فلسفہ اسلامی میں ایک عنوان ملا اور باقی ابحاث فلسفی کی طرح یہ عنوان بین فلاسفہ زیر بحث رہا ۔اور اب آج کے اس دور میں فلسفہ اسلامی کے معرکۃ الآراء اور پچیدہ ابحاث میں سے ایک بحث ہے بلکہ فلسفہ ملا صدرا( آصالۃ وجود) کے مبانی میں سے ایک مبنی ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہے کہ فلسفہ صدرا کی اساس اس بحث پر ہے ۔ جو آصالۃ وجود کو جتنا بہتر سمجھے گا وہ اتنا ہی فلسفہ ملا صدرا کو خوب سمجھ سکتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ملا صدرا وہ پہلے فیلسوف ہیں جنھوں نے باقائدہ آصالۃ وجود کا ادعا کیا۔ اور نظریہ آصالۃ وجود پر برہان قائم کیا ۔ لیکن کیا نظریہ آصالۃ وجود صحیح ہے یا نہیں میں فی الحال قضاوت نہیں کرسکتا۔
دوسری طرف شیخ اشراق کے بعد بہمنیار اور میر داماد جو ملا صدرا کے استاد تھے آصالۃ ماہیت کے قائل تھے۔ خود ملا صدرا بھی اپنے استاد کی طرح شروع میں اصالۃ ماہیت کے طرف دار تھے ۔ لیکن  میں ان پر خاص الہام کے بعد وہ اس نظریہ سے منصرف ہوئےاور آصالۃ وجود کے قائل ہوئے اور ادلۃ عقلیۃ محکم کے ذریعے آصالۃ وجود کو بیان کیا۔ لیکن حکیم میرداماد کے بعد کسی فیلسوف نے اصالۃ ماہیت کا ادعا نہیں کیا نہ آصالۃ وجود کے مقابلے میں کسی نے اسکا دفاع کیا۔
اب چونکہ ملا صدرا نے فلسفہ اسلامی میں ایک تحول ، تطور اور انقلاب برپا کیا تھا ہر طرف آصالۃ وجود کا چرچے ہونے لگے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسفہ اسلامی کے تطور میں ملا صدرا کا کلیدی حصہ رہا ہے لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
ملا صدرا کے آصالۃ وجود کے بعد اب ایک اور نظریہ بعنوان آصالۃ ملکوت مطرح ہوا ہے ۔جناب استاد حجۃ الاسلام و المسلمین محسن غرویان نے اس نظریہ کا ادعا کیا ہے ۔گو کہ یہ نظریہ ابتدائی مراحل میں ہے اور ابحاث فلسفی میں اس کو  اتنی پذیرائی نہیں ملی ۔ البتہ کسی نے محکم ادلۃ کے ذریعے رد بھی نہیں کیا ۔ ہاں زبانی کلامی گفتگو ضرور ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ آصالۃ ان تینوں یعنی وجود ،ماہیت اور ملکوت میں سے کس کو حاصل ہے؟  
ذیل میں ان تینوں نظریات کو اختصارا بیان کرتا ہوں البتہ قضاوت و نقد کا ارادہ نہیں۔
البتہ یہ بات ذہنیش رہے کہ یہ تینوں نظریات آصل واقعیۃ و حقیقت کو قبول کرتے ہیں برخلاف سفسطہ ۔ اختلاف اس پر ہے کہ اس واقعیت کو کس نے پر کیا ہے ؟
1 : *نظریہ آصالۃ وجود*:
 قائلین نظریہ آصالۃ وجودکا یہ ادعا ہے کہ ذہن انسان واقعیت سے دو  قسم کے مفہوم کو انتزاع کرتا ہے مفہوم وجود اور مفہوم ماہیت لیکن جو مفہوم اس واقعیت و حقیقت کو پر کرتا ہے وہ مفہوم وجود ہے ۔ اور وجود ہی خارج میں آثار رکھتا ہے ۔پس آصالۃ وجود کے لئے ہے اور ماہیت اعتباری ہے اصیل نہیں ۔
2 : *نظریہ آصالۃ ماہیت*:
اس نظریہ کےقائلین کا دعوی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ذہن انسان واقعیت سے دو مفہوم کو انتزاع کرتاہے لیکن واقعیت وخارجیت کوجس مفہوم نے پر کیا ہے وہ مفہوم  ماہیت ہے نہ کہ مفہوم وجود ۔ پس آصالۃ ماہیت کے لئیے ہے اور نتیجتا وجود اعتباری ہوگا نہ کہ اصیل۔
3 : *نظریہ آصالۃ ملکوت*: 
نظریہ آصالۃ ملکوت کے قائل کا یہ ادعا ہے کہ اصل واقعیت ،حقیقت و خارجیت سے انکار نہیں ۔لیکن جس چیز نے ذہن کو اذیت کیا ہے وہ یہ ہے کہ ذہن انسان اصل واقعیت وخارجیت سے  صرف دو مفہوم کو انتزاع نہیں کرتااور نہ اس بات پر حصر عقلی ہے بلکہ ذہن انسان شیء واقعی سے تین مفاہیم کو انتزاع کرتا ہے ۔ اور وہ تیسرا مفہوم جو وجود اور ماہیت کے علاوہ ہے وہ مفہوم ملکوت ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ قائل کا ادعا ہے کہ مفہوم ملکوت ، مفہوم وجود اور مفہوم ماہیت سے اعم ہے اور واقعیت اور خارج کو ملکوت نے پر کیا ہے نہ کہ وجود اور ماہیت نے بلکہ یہ دونوں مفاہیم خود ملکوت سے انتزاع ہوتے ہیں۔ پس آصالۃ ملکوت کے لیے ہے ۔ وجود اور ماہیت دونوں اعتباری ہیں۔
ایک چوتھا نظریہ بھی ہے جو آصالۃ ولایۃ کے نام سے معروف ہے ۔ اس نظریہ کا قائل استاد سید محمد مھدی میر باقری ہیں  قائل ہیں کہ برخلاف فلسفہ صدرا آصالۃ ولایۃ کے معتقد ہیں ۔ اس نظریہ کی بناء پر فلسفہ جھان آصالۃ ولایۃ پر مبتنی ہے ۔ البتہ یہ نظریہ بندہ حقیر کے لیے واضح نہیں۔۔۔

آداب ماہ محرم الحرام

*آدابِ ماہِ محرم الحرام*

📝 *ارشد حسین جعفری*

محرم الحرام، هجری قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس کا نام محرم الحرام اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس مہینے میں جنگ و جدل حرام ہے۔ لیکن یہ وہ مہینہ ہے جس میں سبط نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,  نورِ نظرِ حضرت علی علیہ السلام ، جگر گوشہء بتول ، سیّد الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفاء رفقاء کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں کربلا کا عظیم واقعہ اور پُردرد سانحہ، جو تاریخِ بشریت میں ایک طرف تو حق اور حقانیت کی ترجمانی کرتا ہے جس کو آج مسلمان بالخصوص  پیروانِ مکتبِ ولایت و امامت روزِ عاشور کے طور پہ مناتے ہیں جبکہ اس سانحے کا دوسرا رخ تاریخ عالم و بشریت میں وہ سیاہ دھبّہ ہے جس کو مؤرخین نے نہ چاہتے ہوئے بھی تاریخ کے اوراق پہ ثبت کیا۔ اس سانحہ میں دو  شخصیات کی نہیں بلکہ دو اہم کرداروں کی جنگ  تھی۔ ایک کردار حسینی ہے، جو سراپا عدل ہے، جو خیر ہی خیر ہے، جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دین کی بقاء چاہتا ہے، جو اس کائنات کو برائی سے نجات دینا چاہتا ہے، جو توحید بچانے نکلا ہؤا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے صحرائے کربلا کے سینہ میں اپنے خون سے لا الہ الا اللہ لکھ کر یہ بتا دیا کہ دین کی اہمیت انسان کی جان سے بھی زیادہ ہے جبکہ دوسری جانب کردارِ یزیدی ہے جو سر تا پا ظلم و بربریت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے جو وحی الہی کو کھیل تماشا سمجھتا ہے ، جو برائی کو برائی نہیں سمجھتا ،جو اپنے محرم کی عصمت دری کرتا ہے ،جو سبط نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو شہید کرکے خوشی محسوس کرتا ہے۔ کربلا انہی دو کرداروں کا نام ہے ۔ لہذا یہ ضروری تھا کہ ہم اس مہینے کے وہ آداب بیان کریں جن کی رعایت تمام حریت پسندوں بالعموم عالمِ اسلام و بالخصوص مکتبِ ولایت و امامت پر ضروری اور لازم  ہے ۔ 

1 *سیاہ لباس پہننا*
 عام دنوں میں سیاہ لباس پہننا فقہی لحاظ سے مکروہ سمجھا جاتا ہے لیکن امام حسین علیہ السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری کے وقت ہمیں اس مسئلے میں استثناء حاصل ہیں لہذا بہتر ہے کہ ان ایّام میں سیاہ لباس زیبِ تن کیا جائے۔ پس آداب محرم الحرام میں سے ایک ادب، سیاہ لباس زیب تن کرنا ہے کیونکہ سیاہ لباس پہننا غم واندوہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
2 *رونا اور رلانا*
حدیثِ قدسی میں خداوند متعال  نےحضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا کہ ؎ اے موسی! میرے بندوں میں سے جو بھی شہادت امام حسین فرزند مصطفی پر گریہ کرتا ہے یا رونے کی شکل بناتا ہے اور اس عظیم مصیبت پر تعزیت پیش کرتا ہے تو وہ ہمیشہ بہشت میں  رہے گا۔(1)
3 *مجالس و عزاداری برپا کرنا*
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے مجالس برپا کرنے کے عمل کو پسند کرتا ہوں لہذا اپنی مجالس میں ہمارے امر کو زندہ رکھو۔ خداوند متعال رحمت نازل کرے اس شخص پر جو ہمارے امر کو زندہ رکھتا ہے۔(2)
4 *لذتوں سے پرہیز کرنا*
محرم الحرام کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ انسان دنیاوی لذات سے پرہیز کرے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عاشور کے دن ان کاموں کو ترک کردیں جو لذت بخش ہیں، آداب سوگواری کو برپا کریں اور زوال تک کھانے پینے سے پرہیز کریں، اس کے بعد اتنا کھانا تناول کریں جو عام طور پر سوگواران تناول کرتے ہیں۔(3)
5 *مجالس میں با وضو جانا*
اس مہینے کے آداب میں سے ایک اہم ادب مجالس سید الشہداء میں با وضو شرکت کرنا ہے ۔
6 *ماتم کرنا*
محرم الحرام کا مہینہ اہل بیت علیہم السلام کے لۓ غم اور مصیبت کا مہینہ ہے لہذا شیعیان حضرت علی علیہ السلام پر لازم ہے کہ وہ بھی اس مہینہ میں شہداء کربلا  اور سید الشہداء کی شہادت کے اس عظیم مصیبت پر غمگین ہوں ۔ چونکہ روایت میں نقل ہؤا ہے کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب محرم کا مہینہ آتا تھا تو کوئی بھی میرے پدر بزگوار کو ہنستے نہیں دیکھتا تھا اور ایسے ہی امام موسی کاظم علیہ السلام ہمیشہ غمگین رہتے تھے تا روز عاشور اور روز عاشور امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر گریہ کرتے اور فرماتے کہ آج کے روز (عاشور) امام حسین علیہ السلام کو شہید کردیا گیا۔(4)
7 *عاشور کے دن تعطیل*
مسلمانوں کو بالخصوص مؤمنین کو اس عظیم مصیبت کے دن اپنے کام کاج پر نہیں جانا چاہیے کیونکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص عاشور کے دن تعطیل کرتا ہے یعنی کسبِ مال اور مزدوری پہ نہیں جاتا ہے تو خداوند متعال اس شخص کی دنیاوی واخروی حاجات کو پوری کرتا ہے اور جو عاشور کے دن غم واندو میں گزارتا ہے خداوند متعال کل روز قیامت اس کو خوشحال کرے گا۔(5)
8 *اخلاص کی رعایت*
 آدابِ محرم الحرام میں سے ایک ادب جس کی رعایت ضروری ہے اخلاص اور خالص نیت کے ساتھ مجالس میں شرکت کرنا ہے۔ لہذا مجالس و عزاداری کو فقط ایک رسم و عادت سمجھ کر انجام نہیں دینا چاہیے بلکہ خلوص نیت اور خداوند متعال کی رضا کے حصول کے لۓ انجام دینا چاہئے اور ریا و لوگوں کی خوشنودی سے پرہیز مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
9 *تسلیت دینا*
کسی کو اس کی مصیبت پر تعزیت پیش کرنا مستحب عمل ہے ۔ یہ سنّت، اہلِ تشیّع میں رائج ہے اور مؤمنین ایک دوسرے کی مصیبت میں آپس میں ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے شیعہ امام حسین علیہ السلام کی اس عظیم مصیبت پر اس جملے کی تکرار سے ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرتے ہیں؛ وہ جملہ یہ ہے”اَعظَمَ اللهُ اُجُورَنا بمُصابنا بالحُسَین (علیه السلام ) وَ جَعَلَنا وَ اِیاکُم مِنَ الطالبینَ بثاره مع وَلیهِ الاِمام المَهدی مِن الِ مُحَمَدٍ علیهمُ السَلامُ.» 
ترجمہ: خداوند متعال امام حسین علیہ السلام پر سوگواری و عزاداری کی وجہ سے ہمارے اجر میں اضافہ کرے اور ہمیں امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ہمراہی میں امام کے خون کا بدلہ لینے والوں میں سے قرار دے۔(6)
10 *زیارت کرنا و پڑھنا*
علقمہ بن خضرمی امام باقر علیہ السلام سے درخواست کرتے ہیں کہ مجھے ایک دعا تعلیم فرما دیں جو میں دور اور نزدیک سے پڑھ سکوں تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے علقمہ ! جب بھی دعا پڑھنا چاہو تو اٹھ کر دو رکعت نماز بجا لاؤ اور اس کے بعد زیارت عاشورا پڑھ لیا کرو۔ پس اگر زیارت پڑھ لو گے تو گویا تم نے ان کلمات و الفاظ سے دعا کی ہے جو ملائکہ ، امام حسین کے زائر کے لیے دعا کرتے ہوئے استعمال کرتے ہیں اور خداوند متعال تمہارے لیے سو ہزار ہزار (دس کروڑ)درجات لکھے گا یا بلند کرے گا ، اور تم اس شخص کے مانند ہو گے جو امام حسین کے ہمراہ شہادت پا چکا ہو ، تا کہ امام حسین کے اصحاب و انصار کے درجات میں شریک ہو جائیں اور تم صرف اور صرف ان شہیدوں کے زمرے میں قرار پاؤ گے اور انہی شہیدوں کے عنوان سے پہچانے جاؤ گے جو امام حسین کے ہمراہ شہید ہوئے ہیں ، تمہارے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی زیارت کا ثواب لکھا جائے گا اور ان تمام لوگوں کا ثواب آپ کے لیے لکھا جائے گا جنہوں نے امام حسین کی شہادت کے دن سے اب تک آپ کی زیارت کی ہے۔-(7)
منابع۔
1 : مستدرک سفینة النجاة ، ج 7 ، ص 235
2 : وسائل الشيعة ج 10 ، ص 235
3:  ميزان الحكمة ج 8  ص3782
4:  امالى شيخ صدوق ج 2 ، ص 128
5: امالى شيخ صدوق ص129
6 : سفينة البحار ج 2، ص 188
7 : مصباح المتهجد ص714