حضرت فاطمه زہراء (س) کے گھر پر حملہ ایک تاریخی حقیقت:
یوں تو تاریخ انسانی و تاریخ بشریت میں کچھ حقائق ایسے ہیں جن کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، انہیں تاریخی حقائق میں سے ایک حقیقت حضرت فاطمہ زہراء (س) کا گھر جلانا ہے ۔ حضرت فاطمہ زہراء(س) کے گھر پر ایک ایسا حملہ ہوتا ہے جسکے نتیجے میں خود لخت جگر رسول اللہ (ص) کی شان اقدس میں گستاخی ہوئی یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ، اس واقعے کو اکثر اہل سنت کے معتبر علماء(مؤرخین و محدثین) نے ذکر کیا ہے ۔لیکن بعض عقل اور فکر کے اندھے اس واقعے کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دینےکی پوری کوشش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ تاریخ میں رونما نہیں ہوا، اور جن اشخاص کی طرف اس قضیہ کی نسبت دی جاتی ہے انہوں نے یہ کام انجام نہیں دیا ۔
پس اہل سنت کی معتبر کتب میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جو ثابت کرتی ہیں کہ ابوبکر نے اہل بیت (ع) کے بعض دشمنوں کے ساتھ مل کر ، بیت وحی پر حملہ کیا تھا اور اس مقدس گھر کو آگ لگائی تھی، حالانکہ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا (س) اپنے بیٹوں اور رسول خدا (ص) کے نواسوں کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھیں۔
ہم اس مقالہ میں شیعہ و سنی محدثین اور مورخین کے وہ تاریخی شواہد پیش کرینگے( البتہ کسی کی توہین مقصود نہیں فقط اس حقیقت کو بیان کرنا ہے) جو انہوں نے اپنی مکتوبات میں لکھا ہے جو اس بات پر دلیل ہیں کہ رسول اکرم (ص) کا اس دنیا سے تشریف لے جانے کے کچھ ہی دن بعد کچھ لوگ حضرت فاطمہ(س) کے دروازے پر نہ فقط آگ اور لکڑیاں لے کر آئے ، نہ فقط گھر کے دروازے کو لگائی بلکہ اس سانحہ کی وجہ سے حضرت حضرت زہراء (س) کو بہت صدمہ پہنچا اور بعض اشخاص سے آپ آخر عمر مبارک تک ناراض رہیں اور حضرت محسن شہید ہوئے حتی حضرت فاطمہ(ص) کی شھادت میں بھی یہ امر مؤثر رہا.
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت رسول اللہ کی نگاہ میں:
حضرت فاطمہ الزہراء وہ عظیم ہستی ہیں جو تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ شخصیت ہیں اور آپ کی عظمت اور فضائل کا کوئی مسلمان انکاری نہیں ہے آپ سلام اللہ علیہا کے متعلق خداوند متعال کے محبوب ترین رسول یہ فرماتے ہیں:
بے تحقیق فاطمہ سلام اللہ علیہا صدیقہ ( یعنی جو سچی تھیں ، ہیں اور سچی ہونگی ، ان کا گفتار ان کے عمل کی تصدیق کرتا ہے ) ہیں اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا خداوند متعال کا انتخاب کردہ ہیں ۔(1)
فاطمہ الزہراء لوگوں میں پیغمبر کے نزدیک عزیز ترین ہیں۔
: پیغمبر (ص) نے فرمایا
… فاطمه اعز البریه علی
(2) فاطمہ میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
حضرت محمد مصطفی (ص) فرماتے ہیں: :
بے شک فاطمہ میرا ٹکڑا ، میری آنکھوں کا نور اور میری جان ہیں۔(3)
فاطمہ قلب رسول اللہ ہیں :
وَ رُوِی عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِی ص وَ هُوَ آخِذٌ بِیدِ فَاطِمَةَ عَلَیهَا السَّلَامُ فَقَالَ مَنْ عَرَفَ هَذِهِ فَقَدْ عَرَفَهَا وَ مَنْ لَمْ یعْرِفْهَا فَهِی فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَ هِی بَضْعَةٌ مِنِّی وَ هِی قَلْبِی وَ رُوحِی الَّتِی بَینَ جَنْبَی فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِی وَ مَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَی اللَّه
حسن بن سلیمان اپنی کتا محتضر میں تفسیر ثعلبی سے اور وہ مجاہد سے اور مجاہد رسول اللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم (ص) اپنے گھر سے باہر تشریف لائے اس حالت میں کہ آپ نے حضرت فاطمہ الزہراء کے دست مبارک کو پکڑا ہوا تھا اور یوں ارشاد فرمایا:
جو بھی فاطمہ کی معرفت رکھتا ہے وہ جانتا ہے اور جو فاطمہ کو نہیں جانتا ہے وہ ضرور جانے ، یہ فاطمہ میری(محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹی ہے اور وہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں ،فاطمہ میرا دل ہیں جو دو پہلوؤں کے درمیان ہے ، پس جو بھی فاطمہ کو اذیت کرے گا وہ مجھے اذیت دیتا ہے اور جو مجھ (محمد رسول اللہ) کو تکلیف دیتا ہے وہ خداوند متعال کو تکلیف دیتا ہے ۔(4)
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تکریم:
قَالَ رسول الله صلی الله علیه وآله: یا عَلِی هَذِهِ بِنْتِی فَمَنْ أَکرَمَهَا فَقَدْ أَکرَمَنِی وَ مَنْ أَهَانَهَا فَقَدْ أَهَانَنِی
رسول اللہ نے فرمایا:
اے علی یہ میری بیٹی ہے ، جو بھی ان کا احترام کرے گا اس نے گویا میرا احترام کیا اور جو بھی فاطمہ کی اہانت کرے گا وہ میری اہانت کے مترادف ہے.(5)
جنت چہار خواتین کی مشتاق ہے
پیغمبر خدا ( ص) نے فرمایا:
اشتاقت الجنة الی اربع من النساء: مریم بنت عمران، وآسیة بنت مزاحم زوجة فرعون وخدیجة بنت خویلد وفاطمة بنت محمد صلی الله علیه و آله ۔
جنت چہار خواتین کی مشتاق ہے مریم بنت عمران آسیہ بنت مزاحم ، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(6)
ان احادیث کے علاوہ بہت ساری روایات شیعہ اور سنی علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جو حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی عظمت کو بیان کرتیں ہیں جن کا احاطہ یہاں امکان نہیں اس وجہ سے ان چند روایات پر اکتفا کرتے ہیں ۔.
حضرت زہراء (س) کے گھر کے جلانے کے متعلق جب ہم کتب تاریخ اور روایی کا مطالعہ کرتے ہیں تو تین قسم کی روایات ہمیں ملتی ہیں ۔
1۔ وہ روایات جو گھر کے جلانے کے متعلق ہیں۔
2۔ وہ روایات جو حضرت محسن بن علی کی شھادت کے متعلق ہیں۔
3- وہ روایات جو جناب ابوبکر کی گھر کے جلانے پر ندامت کے متعلق ہیں۔
اور یہ تینوں قسم کی روایات کا تعلق ایک ہی واقعہ سے ہے اور ان تینوں قسم کی روایات تحت عنوان بیعت جناب ابوبکر یا قضیہ سقیفہ میں ملتی ہیں۔
پہلی قسم کی روایات ہیں جو گهر کے جلانے کے متعلق ہیں وہ یہ ہیں
). امام جوينی (متوفی 730 ہجری) -1
عالم اہل سنت جوینی کی روایت میں کیونکہ صدیقہ طاہرہ کے مقتول ہونے کے بارے صراحت کی گئی ہے، اسی لیے سب سے پہلے اسی روایت کو ذکر کیا جا رہا ہے۔
جوینی ، کہ جو شمس الدین ذہبی کا بھی استاد ہے، اس نے رسول خدا (ص) سے ایسے روایت کو نقل کیا ہے کہ:
ایک دن رسول خدا بیٹھے ہوئے تھے کہ حسن ابن علی انکے پاس آئے، رسول خدا کی نگاہ جونہی اپنے نواسے حسن پر پڑی، آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے، پھر حسين ابن علی رسول خدا کے پاس آئے، رسول خدا نے دوبارہ گریہ کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد جناب فاطمہ اور حضرت امیر بھی وہاں آئے تو رسول خدا نے ان دونوں کو بھی دیکھتے ہی اشک بہانا شروع کر دیا۔ جب رسول خدا سے حضرت فاطمہ پر گریہ کرنے کے سبب کو پوچھا گیا تو آپ (ص) نے فرمایا کہ:
وَ أَنِّي لَمَّا رَأَيْتُهَا ذَكَرْتُ مَا يُصْنَعُ بِهَا بَعْدِي كَأَنِّي بِهَا وَ قَدْ دَخَلَ الذُّلُّ في بَيْتَهَا وَ انْتُهِكَتْ حُرْمَتُهَا وَ غُصِبَتْ حَقَّهَا وَ مُنِعَتْ إِرْثَهَا وَ كُسِرَ جَنْبُهَا [وَ كُسِرَتْ جَنْبَتُهَا] وَ أَسْقَطَتْ جَنِينَهَا وَ هِيَ تُنَادِي يَا مُحَمَّدَاهْ فَلَا تُجَابُ وَ تَسْتَغِيثُ فَلَا تُغَاثُ ... فَتَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَتَقْدَمُ عَلَيَّ مَحْزُونَةً مَكْرُوبَةً مَغْمُومَةً مَغْصُوبَةً مَقْتُولَة،
فَأَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ الْعَنْ مَنْ ظَلَمَهَا وَ عَاقِبْ مَنْ غَصَبَهَا وَ ذَلِّلْ مَنْ أَذَلَّهَا وَ خَلِّدْ فِي نَارِكَ مَنْ ضَرَبَ جَنْبَهَا حَتَّي أَلْقَتْ وَلَدَهَا فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ آمِين .
جب میں نے فاطمہ کو دیکھا تو مجھے ایک دم سے وہ تمام مظالم یاد آ گئے کہ جو میرے بعد اس پر ڈھائے جائیں گے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ ذلت اسکے گھر میں داخل ہوئی ہے، اسکی حرمت کو پامال کیا گیا ہے، اسکے حق کو غصب کیا گیا ہے،اسکی میراث کو اس سے دور کیا گیا ہے، اسکے پہلو کو زخمی اور اسکے بچے کو سقط کیا گیا ہے، جبکہ وہ بار بار ندا اور فریاد کر رہی ہو گی: وا محمداه ! ،
لیکن کوئی بھی اسکی فریاد سننے والا نہیں ہو گا، وہ مدد کے لیے پکار رہی ہو گی، لیکن کوئی بھی اسکی مدد نہیں کرے گا۔
وہ میرے خاندان میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملے گی، اس حال میں میرے پاس آئے گی کہ وہ بہت محزون، غمگین اور شہید کی گئی ہو گی۔
یہ دیکھ کر میں کہوں گا کہ: خداوندا جس نے بھی اس پر ظلم کیا ہے، اس پر لعنت فرما، عذاب کر اس کو کہ جس نے اسکے حق کو غصب کیا ہے، ذلیل و خوار کر اسکو کہ جس نے اسے ذلیل کیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رکھ ، جس نے اسکے پہلو کو زخمی کر کے اسکے بچے کو سقط کیا ہے۔ رسول خدا کی اس لعنت و نفرین کو سن کر ملائکہ آمین کہیں گے۔(7)
فرائد السمطين ج2 ، ص 34 و 35
ذہبی نے اپنے استاد امام الحرمین جوینی کے حالات کے بارے میں کہا ہے کہ:
وسمعت من الامام المحدث الاوحد الاكمل فخر الاسلام صدر الدين ابراهيم بن محمد بن المؤيد بن حمويه الخراساني الجويني ... وكان شديد الاعتناء بالرواية وتحصيل الاجزاء حسن القراءة مليح الشكل مهيبا دينا صالحا
اور میں نے بے نظیر امام، محدث کامل، فخر اسلام صدر الدين ابراہيم ابن محمد ابن المويد ابن حمويہ الخراسانی الجوينی سے روايت کو سنا تھا ۔۔۔۔۔ وہ روایات اور احادیث کی کتب کو بہت زیادہ اہمیت دیا کرتے تھے، وہ خوبصورت چہرے اور اچھی آواز کے مالک تھے کہ جو با ہیبت، دین دار اور ایک صالح انسان تھے۔(8)
تذكرة الحفاظ ج 4 ، ص 1505- 1506 ، رقم 24 .
2۔ علامہ مجلسی بحار الانوار میں لکھتے ہیں:
أقبل عمر فى جمع كثير إلى منزل على بن أبي طالب فطالبه بالخروج فأبى فدعا عمر بحطب ونار .،،
عمر بہت سارے افراد کے ساتھ علی بن ابی طالب کے گھر آئے اور امام سے کہا کہ وہ گھر سے باہر آجائیں امام باہر نہیں آئے اس دوران عمر نے لکڑی اور آگ طلب کیا۔(9)
3۔ شھرستانی الملل ولنحل میں لکھتے ہیں:
وما كان فى الدار غير على وفاطمة والحسن والحسين أحرقوا دارها بمن فيها.
اس دن حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کے علاوہ کوئی گھر میں نہیں تھا اس دوران عمر نے حکم دیا کہ اس گھر کو گھر والوں کے ساتھ آگ لگا دو۔ (10)
طبری لکھتے ہیں:
والله لاحرقن عليكم .
خدا کی قسم آگ کو تمہارے اوپر مسلط کردوں گا۔(11)
اس دوران حضرت زہراء (س) گھر سے نکلیں اور پست دروازے پر رکیں۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں:
خرجت فاطمة بنت رسول الله(ص) إليهم فوقفت على الباب لا عهد لى بقوم أسوأمحضرامنكم تركتم رسول الله(ص) جنازة بين أيدينا وقطعتم أمركم فيما بينكم فلم تؤمرونا ولم تروا لنا حقنا كأنكم لم تعلموا ما قال يوم غدير خم والله لقد عقد له يومئذ الولاء ليقطع منكم بذلك منها الرجاء ولكنكم قطعتم الأسباب بينكم و بين نبيكم والله حسيب بيننا وبينكم فى الدنيا والأخرة.
میں اپنی پوری زندگی میں تم جیسی بے وفا و بے وفاتر قوم کو نہیں پہچانتی کہ رسول اللہ (ص) کے جنازے کو ہمارے سامنے چھوڑ کر اپنے کام میں سرگرم اور خلافت کو حاصل کرنے لگے گۓ ، نہ ہم سے کوئی مشورہ کیا اور نہ ہمارے حق کے قائل ہوۓ، گویا تم غدیر خم کے بارے کچھ نہیں جانتے۔ خدا کی قسم اس دن امر ولایت کو محکم کیا کہ تمہارے لئے کو طمع و امید نہیں چھوڑی لیکن تم نے اس کی رعایت نہیں کی اور ہر رشتہ ورابطہ کو اپنے پیغمبر سے قطع کیا۔ البتہ خداوند متعال ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرےگا۔(12)
4۔ ابن عبد ربہ عقد الفرید میں لکھتے ہیں:
فأقبل بقبس من نار على أن يضرم عليهم الدار
عمر نے آگ کا ایک شعلہ لے کر حضرت زہراء (س) کے گھر کو جلانے کا قصد کیا۔(13)
شہرستانی لکھتے ہیں عمر نے کہا:
أحرقو ا دارها بمن فيها
گھر کو گھر والوں کے ساتھ جلا دو۔(14)
اس وقت حضرت زہرا ء (س) نے عمر کو دیکھا اور عمر سے کہا: يا ابن الخطاب أجئت لتحرق دارنا.؟
اے ابن خطاب کیا تم ہمارا گھر جلانے آئے ہو۔؟
حضرت عمر نے کہا:
نعم أو تدخلوا فيما دخلت فيه الأمة
جى ! مگر یہ کہ ابوبکر کی بیعت کرو جسے کہ امت نے بیعت کی ہے۔(15)
اس وقت حضرت زہراء (س) نے درگاہ الھی میں شکایت کرتیں ہیں اور فرماتیں ہیں
يا أبتاه! يا رسول الله (ص)! أنظر ماذا لقينا بعدك من ابن الخطاب وابن أبي قحافة ،،
اے بابا ! اے رسول اللہ (ص) ! دیکھو آپ کے بعد ہم نے ابن خطاب اور ابن ابی قحافہ کس قدر ظلم دیکھے (16)
ابن عبد ربّہ نے کتاب العقد الفريد میں لکھا ہے کہ:
الذين تخلّفوا عن بيعة أبي بكر: عليّ والعباس، والزبير، وسعد بن عبادة، فأمّا علي والعباس والزبير فقعدوا في بيت فاطمة حتّي بعث اليهم أبو بكر عمر بن الخطاب ليخرجوا من بيت فاطمة وقال له: إن أبوا فقاتلهم . فأقبل عمر بقبس من نار علي أن يضرم عليهم الدار فلقيته فاطمة فقالت: يابن الخطاب ! أجئت لتحرق دارنا ؟ قال : نعم أو تدخلوا فيما دخلت فيه الأمة فخرج علي حتي دخل علي أبي بكر .
ابوبکر نے عمر ابن خطاب کو بھیجا تا کہ جائے اور ان لوگوں کو فاطمہ کے گھر سے باہر نکال دے اور اسے کہا کہ: اگر وہ تمہاری بات ماننے سے انکار کریں اور گھر سے باہر نہ آئیں تو انکے ساتھ جنگ کرے۔ عمر ایک جلتی ہوئی مشعل ہاتھ میں لیے فاطمہ کے گھر کو آگ لگانے کی نیت سے ، ان لوگوں کی طرف گیا۔ فاطمہ نے کہا: اے خطاب کے بیٹے کیا تو ہمارے گھر کو آگ لگانے کے لیے آیا ہے ؟ عمر نے کہا: ہاں، مگر یہ کہ تم بھی وہی کام ابوبکر کی بیعت) کرو جو اس امت نے انجام دیا ہے۔۔(17)

). علامہ بلاذری (متوفی 270 ہجری) 5
إن أبابكر آرسل إلي علي يريد البيعة ، فلم يبايع ، فجاء عمر و معه فتيلة . فتلقته فاطمة علي الباب فقالت فاطمة : يابن الخطاب ! أتراك محرّقا عليّ بابي ؟! قال : نعم ، و ذلك أقوي فيما جاء به أبوك .
ابوبکر نے کچھ لوگوں کو علی سے بیعت لینے کے لیے بھیجا، جب علی نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تو اس نے عمر کو حکم دیا کہ جاؤ اور علی کو میرے پاس لے کر آؤ۔ عمر ہاتھ میں آگ جلتی مشعل لے کر فاطمہ کے گھر کی طرف گیا۔ فاطمہ گھر کے دروازے کے پیچھے آئی اور کہا: اے خطّاب کے بیٹے ! کیا تو میرے گھر کے دروازے کو آگ لگانا چاہتا ہے ؟ عمر نے کہا: ہاں ! میرا یہ کام جو کچھ (شریعت) تمہارے والد لے کر آئے تھے، اسکو محکم تر کرے گا(18)
). ابن قتيبہ دينوری (متوفی 276 ہجری) 6
وإن أبا بكر رضي الله عنه تفقد قوما تخلفوا عن بيعته عند علي كرم الله وجهه ، فبعث إليهم عمر ، فجاء فناداهم وهم في دار علي ، فأبوا أن يخرجوا فدعا بالحطب وقال : والذي نفسه عمر بيده . لتخرجن أو لأحرقنها علي من فيها ، فقيل له : يا أبا حفص ، إن فيها فاطمة ؟ فقال : وإن
ابوبکر نے ، ان لوگوں کہ جہنوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی، وہی کہ جو علی کے پاس جمع ہوئے تھے، عمر کو ان لوگوں کے پاس بھیجا، عمر نے انکو بلند آواز سے پکارا، لیکن انھوں نے اسکی کوئی پروا نہیں کی اور گھر سے باہر نہ نکلے۔ عمر نے ایندھن منگوایا اور کہا: اس خدا کی قسم کہ جسکے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے، گھر سے باہر آؤ، ورنہ میں اس گھر کو سب گھر والوں سمیت آگ لگا دوں گا۔ عمر کو کہا گیا کہ اے ابا حفص ! اس گھر میں اس وقت فاطمہ بھی موجود ہیں، عمر نے کہا: ہوتی ہے تو ہوتی رہے !!!(19)
). ابن ابی شيبہ (متوفی 239 ہجری)7
عالم اہل سنت ابن ابی شیبہ ، محمد ابن اسماعیل بخاری کا استاد ہے، اس نے اپنی کتاب المصنف میں لکھا ہے کہ:
أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول الله ( ص ) كان علي والزبير يدخلان علي فاطمة بنت رسول الله ( ص ) فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم ، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتي دخل علي فاطمة فقال : يا بنت رسول الله ( ص ) ! والله ما من أحد أحب إلينا من أبيك ، وما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك ، وأيم الله ما ذاك بمانعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك ، إن أمرتهم أن يحرق عليهم البيت ، قال : فلما خرج عمر جاؤوها فقالت : تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف بالله لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت وأيم الله ليمضين لما حلف عليه ....
جب مدینہ کے لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی، علی اور زبیر کے فاطمہ کے گھر میں اسی بارے میں گفتگو اور مشورہ کرنے کے بارے میں جب عمر ابن خطاب کو پتا چلا تو وہ فاطمہ کے گھر آیا اور کہا: اے بنت رسول اللہ ! ہمارے لیے محبوب ترین انسان تمہارے والد ہیں اور انکے بعد خود تم !!! لیکن خدا کی قسم یہ محبت مجھے اس کام سے منع نہیں کرے گی کہ تمہارے گھر میں جمع ہونے والوں کی وجہ سے ، میں حکم دوں کہ اس گھر کو آگ لگا دیں۔ [یعنی میں آپکے رسول خدا کی بیٹی ہونے کے باوجود بھی، اس گھر کو آگ لگا دوں گا
عمر یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔ جب علی ، زبیر کے ساتھ اپنے گھر واپس آئے تو بنت رسول خدا نے علی اور زبیر کو بتایا کہ: عمر میرے پاس آیا تھا اور اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر آپ لوگ دوبارہ اس گھر میں اکٹھے ہوئے تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا، (حضرت زہرا نے کہا) خدا کی قسم ! وہ اپنی قسم پر عمل کر کے ہی رہے گا.(20)
المصنف ، ج8 ، ص 572
ابان ابن ابی عیاش سلیم بن قیس سے نقل کرتے ہیں میں ابن عباس کے گھر میں ان کے پاس تھا حضرت علی (ع) کے شیعوں کا ایک گروہ بھی ہمارے ساتھ تھا ابن عباس ہم سے گفتگو کررہے تھے پھر ابن عباس نے حضرت زہراء (س) کے گھر پر حملہ کو بیان کیا اور فرمایا:
يا إخوتي توفى رسول الله (ص) فأقبل عمر حتى ضرب الباب ثم نادى : يابن أبى طالب إفتح الباب،،
اے برادران رسول اللہ (ص) کی رحلت کے عمر حضرت زہراء (س) کے دروازے پر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا اور نداء دی اے ابو طالب کے بیٹے دروازہ کھولو۔
حضرت عمر کی یہ آواز سن کر حضرت فاطمہ زہراء (س) نےفرمایا:
يا عمر ما لنا ولك لا تدعنا وما نحن فيه
اے عمر تمہارا ہم سے کیا سروکار ہمیں ہماری مصیبت میں چین سے رہنے نہیں دیتے ۔
جواب میں حضرت عمر نے کہا
إفتحي الباب وإلا أحرقناه عليكم
دروازے کو کھولو ورنہ دروازے کو آگ لگا دینگے۔
حضرت زہراء (س) نے فرمایا!
يا عمر ! أما تتقى الله عزوجل تدخل على بيتى وتهجم على دارى؟
اے عمر خداوند متعال سے نہیں ڈرتے میرے گھر میں داخل ہونگے اور میرے گھر پر حملہ کروگے؟
فأبى أن ينصرف ثم دعا عمر بالنار فأضرمها فى الباب فأحرق الباب ثم دفعه عمر .
عمر واپس نہیں لوٹا اور آگ طلب کیا اور گھر کے دروازے کو لگایا اور دروازے نے آگ پکڑ لی .(21)
طبری اپنی کتاب تاریخ الامم الملوک میں لکھتے ہیں:
عن زياد بن كليب قال: أتي عمر بن الخطاب منزل عليّ وفيه طلحة والزبير ورجال من المهاجرين فقال: واللّه لأحرقنّ عليكم أو لتخرجنّ إلي البيعة»، فخرج عليه الزبير مصلتاً بالسيف فعثر فسقط السيف من يده فوثبوا عليه فأخذوه.
عمر ابن خطاب علی کے گھر کی طرف آیا کہ جہاں پر طلحہ، زبیر اور مہاجرین کا ایک گروہ جمع تھا۔ عمر نے ان سے کہا: خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے بیعت نہ کی تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا۔ زبیر ہاتھ میں شمشیر لیے گھر سے باہر آیا، اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور شمشیر اسکے ہاتھ سے گر گئی، اسی وقت کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کر کے شمشیر اسکے ہاتھ سے چھین لی۔(22)
مسعودی شافعی (345 متوفی 345 ہجری)
فهجموا عليه وأحرقوا بابه ، واستخرجواه منه كرهاً ، وضغطوا سيّدة النساء بالباب حتّي أسقطت محسناً .
انھوں نے اس پر حملہ کیا اور اسکے گھر کے دروازے کو آگ لگائی اور انھوں نے اسے زبردستی اسکے گھر سے باہر نکالا اور عورتوں کی سردار پر دروازے کو اتنا دبایا کہ انکا بچہ محسن سقط ہو گیا۔ (23)
دوسری قسم کی روایات وہ ہیں جو سقط جنین( شھادت حضرت محسن) کو بیان کرتیں ہیں ۔
بلاذری انساب الاشراف میں لکھتے ہیں:
حضرت علی کے لۓ حضرت فاطمہ سے چند بچے تھے کہ ان کے نام یہ تھے۔
1-حسن جس کی کنیت ابا محمد ہے
2-حسین جسکی کنیت اباعبداللہ ہے
اور محسن کہ وہ بچگی میں فوت ہوئے(ج 1، ص 404، طبع مصر))3-
مسعودی اثبات الوصیة میں حکایت سقیفة کے ذیل میں کہتے ہیں:
انہوں نے گھر پر حملہ کے وقت سیدہ النساء کو دروازے کے پیچھے اتنا دبایا کہ محسن سقط ہوگیا۔(24)
(اثبات الوصیہ ، ص 142)
شھرستانی ملل نحل میں لکھتے ہیں:
نظام کہتا ہے کہ بتحقیق عمر نے روز بیعت فاطمہ کے شکم پر ایک ایسا ضرب لگایا کہ فاطمہ نے جنین کو سقط کیا ۔(25)
(ملل ونحل ، ج 1 ، ص 57، طبع بیروت۔)
ذھبی مورخ مشہور لسان المیزان میں لکھتے ہیں:
محمد بن احمد حماد جو کہ حافظین اھل سنت میں سے ہیں کہتے ہیں:
بغیر کسی شک کے عمر نے فاطمہ کو ایسا ضرب لگایا کہ محسن حضرت سے سقط ہوا۔(26 )
(لسان المیزان، ج 1، ص268
تیسری قسم کی روایات جو جناب ابو بکر کی ندامت سے متعلق ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
یعقوبی مشہور مؤرخ اہل سنت لکھتے ہیں:
اس وقت جب ابو بکر مریض ہوۓ اور اسی مرض کی وجہ سے مر گۓ عبد الرحمن بن عوف اس کی عیادت کےلئے گیا اور اس سے پوچھا:
اے خلیفہ پیامبر تمہاری حالت کیسی ہے۔۔۔؟
ابو بکر نے کہا : بے تحقیق میں تین کاموں کے علاوہ کسی چیز پر نادم نہیں اور وہ تین کام جو انجام دیا اے کاش انجام نہ دیتا وہ تین کام یہ ہیں
1 ۔ اے کاش خلافت کی ہار کو نہ پہنتا ۔
2 ۔ اے کاش فاطمہ کے گھر کی تفتیش نہ کرتا اور حملہ نہ کرتا اگر چہ وہ میرے سے جنگ کا اعلان کرتے۔۔۔۔۔۔(27)
: مسعودی مریض ابو بکر کے متعلق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
ابو بکر وفات ہونے سے پندرہ دن پہلے مریض ہوۓ ، جب حالت احتضار کا وقت آیا تو کہا : کوئی چیز میرے اوپر نہیں مگر وہ تین کام جو میں انجام دیئے ای کاش کہ ان تین کاموں کو انجام نہ دیتا ان میں سے ایک یہ ہے ۔۔۔
اے کاش فاطمہ کے گھر کی تفتیش نہ کرچکا ہوتا ۔۔۔(28)
: طبری لکھتے ہیں
عبدالرحمن بن عوف نے کہا : اس وقت جب ابو بکر مریض ہوا اور اس مرض کی وجہ سے مر گیا اس سے ملاقات کےلئے گیا ۔۔۔۔
ابو بکر نے کہا بے تحقیق دنیا کی کسی چیز پر نادمت نہیں کرتا مگر وہ تین کام کہ جن کو انجام دیا ان کو انجام نہ دیتا ان میں سے ایک کام یہ ہے
(29) اے کاش فاطمہ کے گھر کی بے احترامی نہ کرچکا ہوتا اگر چہ میرے خلاف اعلان جنگ کرتے ۔۔۔۔
جناب طبرانی نے بھی اپنی کتاب المعجم الکبیر میں اس حدیث کو نقل کیا ہے.(30)
مراجعات :
1 - فیروزی آبادی ،سید مرتضی ، فضائل الخمسه ، 3 ص 180
2 - شیخ مفید ، امالی ، ص 259
3 - شیخ صدوق ، ص486
4 - مجلسی ، بحار الانوار ، ج 43 ، ص 80
5 - مجلسی ، بحار الانوار ، ج 43 ص 141
6 - مجلسی ، بحارالانوار ، ج43 ، ص 53
7 - جوینی ، فرائد السمطین ،ج 2 ص 34-35
8 - ذهبی ، تذکره الحفاظ ، ج4 ص 1504-1506
9 - مجلسی ، بحار الانوار ، ج 28 ، ص 204
10- شهرستانی ، الملل والنحل ، ج1 ، ص 71
11- طبرانی ، تاریخ طبرانی ،ج2 ، ص 443
12- مجلسی ، بحارالانوار ، ج 28 ص 204
13- ابن عبد ربه ، عقد الفرید ، ج 4 ، ص 93
14 - شهرستانی ، الملل والنحل ، ج1 ، ص 71
15- مجلسی، بحارالانوار ، ج 28 ، ص 239
16 - بحرانی اصفهانی ، عوالم العلوم ، ج11 ، ص581
17 - ابن عبد ربه ، عقد الفرید ، ج 5 ، ص 13-14 چاپ بیروت
18 - بلاذری ، انساب الاشراف ، ص 586
19- ابن قتیبه دینوری ، الامامه والسیاسه ، ج1 ، ص 12
20 – ابن ابی شیبه ف المصنف ، ج 7 ، ص 422 ، چاپ اول بیروت
21 - کتاب سلیم ابن قیس ، ج 2 ، ص 864
22 - طبری ، تاریخ الامم والملوک ، 2 ، ص 443 چاپ بیروت
23- مسعودی ، اثبا ت الوصیه ، ص 142
24 - بلاذری ، انساب الاشراف ، ج1 ، ص 404 ، چاپ بیروت
25 - شهرستانی ، الملل والنحل ، ج1 ، ص 57 ، چاپ بیروت
26 - ذهبی ، لسان المیزان ، ج1 ، ص 268
27 - یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، ج2 ،ص 137 ، چاپ بیروت
28- مسعودی ، مروج الذهب ، ج 2 ، ص194 ، چاپ مصر
29 - طبری ، تاریخ الامم والملوک ، ج2 ، ص 619 ،چاپ بیروت
30- طبرانی ، المعجم الکبیر ، ج 1 ، ص 62